بھٹکل:5/اگست(ایس او نیوز) سمندرمیں اتر کر مشکل حالات کا بڑی جرأت مندی سے سامنا کرتے ہوئے 8گھنٹوں سے زائد وقت تک سمندری موجوں میں تیر کر اپنی جان بچانے میں کامیاب ہونے والےتعلقہ کے ماوین کوروے گرام پنچایت حدود کے سات ماہی گیروں اور ان کے خاندان والوں سے ساحلی محافظ دستہ (کوسٹل گارڈ)کے کمانڈر مُکیش کے شرما نے ملاقات کرتے ہوئے انہیں ہمت و حوصلہ دینے کی کوشش کی۔
جمعہ کی شام 5بجے کاروار سے بھٹکل پہنچے کمانڈر سمندر میں غرق ہوکر لاپتہ ہونے والے منجوناتھ کھاروی کے گھروالوں سے تعزیت کی، ان کے والد، والدہ، اہلیہ اور دو بچوں سے ملنے کے بعد منجوناتھ کھاروی کے سمندر میں ڈوب کر غرق ہونے پرسخت افسوس کا اظہار کیا اور بتایا کہ کوسٹل گارڈ کی طرف سے اُن کی لاش کی کھوج کی جارہی ہے، جس کے لئے 200 سے زائد کوسٹل گارڈ کے اہلکار سمندر میں تلاشی مہم شروع کررکھی ہے۔بھٹکل سرکاری اسپتال میں زیر علاج ماہی گیروں کے پاس پہنچ کر واقعہ کی جانکاری لیتے ہوئے اُن کی ہمت کی داد دیتے ہوئے کہا کہ ایسے بہادر اور جرات مند لوگوں کو ملک کی فوج میں بھرتی ہونا چاہئے۔
بدھ کی شام بحرہ عرب میں ہوئے دلدوز واقعہ کا تذکرہ کرتے ہوئے کمانڈر شرما نے کہا کہ آٹھ گھنٹوں تک مسلسل سمندر میں تیر کر ساحل کنارےپہنچنا یہ بڑی جرات کا کام ہے اور ماہی گیروں کی اس جرأت کو ہرکوئی سلام کرتاہے۔ انہوں نے جرات مند ماہی گیروں کو مشورہ دیا کہ اُن کے ساتھ بیچ سمندر میں جس طرح کے حالات پیش آئے اور کشتی ڈوبنے کے بعد جس طرح کے حالات کا سامنا کرنا پڑا، اُسے اپنے ساتھیوں کو بیان کریں تاکہ آئندہ اس طرح کی صورتحال سے ہرکوئی چوکنا رہیں اور احتیاط برتیں۔ انہوں نے کہا کہ بوٹ پر جب مچھلیوں کا شکار کرنے کے لئے سمندر میں اُتریں تو کم ازکم ہر ماہی گیر اپنے ساتھ ایک لائف جیکٹ ضرور رکھیں، انہوں نے کہا کہ اگر ایک جیکٹ بھی ساتھ ہوتی تو تین چار لوگ ایک جیکٹ کے سہارے اپنی جان بچاسکتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ ایک لائف جیکٹ کی قیمت بمشکل پانچ سو روہئے ہوتی ہے۔
انہوں نے بتایا کہ بیچ سمندر جانے سے پہلے بوٹ میں حفاظت کے لئے درکار دوسرے کئی تحفظاتی آلات ساتھ لے جانا ضروری ہے، مگر متعلقہ بوٹ پر حفاظتی تدابیر اختیار کرنے جیسے کوئی چیز نہیں تھی، انہوں نے دیگر نوجوانوں کو بھی مشورہ دیا کہ اپنی جان کی حفاظت سب سے زیادہ مقدم ہے۔ سرکار اس طرح کی سہولت دیتی ہے یا نہیں، یہ دیکھنے کے بجائے اپنی جان کی حفاظت خود کرنا ضروری ہے۔
بعد میں اخبارنویسوں سے گفتگو کرتے ہوئے انہوں نے بتایا کہ سمندر میں غرق ہونے والےماہی گیرکی تلاش جاری ہے۔ نعش کا پتہ لگانے کے لئے تین بوٹ اور ایک ہیلی کاپٹر کا استعمال کیاجارہاہے۔ کمانڈر سریش کی رہنمائی میں دو سو سےزائد اہلکار دن رات تلاش کررہے ہیں ،آگے بتایا کہ شیرور کے قریب بیچ سمندرپرایک نعش کے نظر آنے کی کسی ماہی گیر نے اطلاع دی ہے ،مگر اس کی تصدیق ہونا باقی ہے۔
اس موقع پربھٹکل اےایس پی ڈاکٹر انوپ شٹی ، تحصیلدار وی این باڈکر ، سی پی آئی سریش نایک ،ضلع پنچایت صدر جئے شری موگیر ، ماہی گیر لیڈر وسنت کھاروی ، این ڈی کھاروی ، گووند کھاروی ، رام داس کھا روی وغیرہ موجود تھے۔